بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

سرمائے پر فیصد طے کرکے وصول کرنا اور نقصان میں شریک نہ ہونا


سوال

میں کچھ رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہوں، لیکن میں نقصان میں شریک نہیں ہوں گا جب کہ وہ میری سرمایہ کاری کا کچھ فیصد مجھے دیں گے، کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شراکت داری میں یہ شرط لگانا کہ کوئی ایک شریک نقصان میں شریک نہیں ہوگا، ناجائز ہے۔ نیز اپنے لگائے ہوئے سرمائے کا کچھ فیصد طے کرکے نفع لینا بھی سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حرام اور ناجائز ہے۔

شراکت داری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنے عمل اور سرمایہ کاری کے حساب سے دیگر شرکاء کی رضامندی سے آپ کے لیے ایک خاص تناسب سے نفع کا طے ہوجائے، (یعنی حاصل شدہ نفع میں سے فیصدی حصہ طے کیا جائے نہ کہ سرمائے کا فیصدی حصہ) اور اگر نقصان ہو تو ہر شریک کو اس کے سرمایہ کے بقدر نقصان ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 59):
"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے