بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کا طریقہ اور نفل بیٹھ کر پڑھنے کا حکم


سوال

 1۔ سجدۂ سہو ادا کرنے کا طریقہ بتا دیں۔

2۔ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے میں کوئی ممانعت تو نہیں؟

جواب

1. سجدہ سہو ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا آخری تشہد میں التحیات مکمل کر لینے کے بعد ایک طرف سلام پھیرے اور دو سجدے کر لے، اس کے بعد التحیات پڑھ کر درود شریف پڑھ لے اور سلام پھیر کر نماز مکمل کر لے۔

2. نفل نماز  بلا عذر بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، قیام پر قدرت ہونے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، البتہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں ثواب کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ملے گا۔

مشكاة المصابيح – (1 / 392):
"وعن عمران بن حصين: أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعداً؟ قال: «إن صلى قائماً فهو أفضل، ومن صلى قاعداً فله نصف أجر القائم، ومن صلى نائماً فله نصف أجر القاعد» . رواه البخاري".
مشكاة المصابيح – (1 / 393):
"عن عبد الله بن عمرو قال: حدثت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الرجل قاعداً نصف الصلاة» قال: فأتيته فوجدته يصلي جالساً فوضعت يدي على رأسه، فقال: «مالك يا عبد الله بن عمرو؟» قلت: حدثت يا رسول الله إنك قلت: «صلاة الرجل قاعداً على نصف الصلاة» وأنت تصلي قاعداً؟! قال: «أجل ولكني لست كأحد منكم» . رواه مسلم".
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح – (1 / 403):
"قوله: ”ولكن له نصف أجر القائم“، يستثنى منه صاحب الشرع صلى الله عليه وسلم، كما ورد عنه صلى الله عليه وسلم فإن أجر صلاته قاعداً كأجر صلاته قائماً فهو من خصوصياته". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200734

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے