بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

سافٹ ویئر اس شرط پر بیچنا کہ آگے نہ بیچا جائے


سوال

آج کل مختلف سافٹ ویئرز  کی کمپنیز اس شرط پر سافٹ ویئر فروخت کرتی ہیں کہ وہ سافٹ وئیر آگے کسی دوسرے شخص کو فروخت نہ کیا جا ئے  اور اگر کرنا بھی ہو تو اس کمپنی کو مخصوص رقم دینا ہوگی، کیا کمپنیز کی ایسی شرط لگانا درست ہے؟

جواب

سافٹ ویئر بیچتے وقت یہ شرط لگانا درست نہیں کہ خریدار اسے آگے کسی دوسرے شخص پر نہیں بیچ سکتا، لہذا یہ خریداری تو درست ہے، لیکن اس شرط کو پورا کرنا ضروری نہیں، بلکہ خریدار آگے سافٹ ویئر بیچ سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (5 / 87):

"(فيصح) البيع (بشرط يقتضيه العقد) ... (أو لايقتضيه ولا نفع فيه لأحد) ... (كشرط أن لايبيع) عبر ابن الكمال بيركب (الدابة المبيعة) فإنها ليست بأهل للنفع". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں