بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ساس کا داماد کو بوسہ دینا


سوال

نامحرم ساس کا داماد کا  بوسہ لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی عورت سے نکاح کے بعد اس کی ماں (ساس) نامحرم نہیں رہتی، بلکہ ہر ساس محرم بن جاتی ہے، البتہ بوسہ لینے کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ اگر ساس بوڑھی ہو اور داماد کا بوسہ لینے میں دونوں طرف سے شہوت کے متعلق اطمینان ہو تو بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔   لیکن اگر عمر کے ایسے حصے میں ہو کہ کسی ایک طرف سے بھی شہوت  ابھرنے کا خدشہ ہو تو بوسہ لینا جائز نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 35):
"(قبل أم امرأته) .... في أي موضع كان على الصحيح جوهرة (حرمت) عليه (امرأته ما لم يظهر عدم الشهوة) ولو على الفم".

وفي الرد:

"فكان الأولى أن يقول: لاتحرم ما لم تعلم الشهوة أي بأن قبلها منتشراً، أو على الفم فيوافق ما نقلناه عن الفيض ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے