بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1441ھ- 18 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے مدرسہ کی تزئین اور آرائش کرنا


سوال

 لوگوں کے زکاۃ،فطرانہ کو مدرسہ کی تعمیر تزیین  پرخرچ کرنا کیسا ہے  جب کہ مدرسہ وقف نہ ہو؟  اوراگر وقف ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

زکاۃ  اور صدقاتِ  واجبہ (مثلاً فطرہ وغیرہ)  کی رقم کسی مستحق مسلمان شخص کو مالک بناکر دینا ضروری ہوتا ہے، اس رقم سے تعمیراتی کام کرانا جائز نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے زکاۃ  دینے والوں کی زکاۃ ادا ہوتی، لہذا زکاۃ  اور صدقاتِ واجبہ کی رقم سے مدرسہ کی تعمیر، تزیین اور آرائش کا کام کرانا جائز نہیں ہے، خواہ مدرسہ وقف ہو یا وقف نہ ہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے