بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی میں کون سی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟


سوال

زکاۃ کی قیمت کون سے دن کی شمار ہوگی،   نصاب کا مالک بنا تب یا ادائیگی کے دن کی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نصاب کا مالک بننے کے بعد اس مال پر سال گزرنے پر زکاۃ کی ادائیگی کے دن مال کی قیمت لگا کر ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی ہے:

"وَتُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ يَوْمَ الْوُجُوبِ، وَقَالَا: يَوْمَ الْأَدَاءِ. وَفِي السَّوَائِمِ يَوْمَ الْأَدَاءِ إجْمَاعًا، وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَيُقَوَّمُ فِي الْبَلَدِ الَّذِي الْمَالُ فِيهِ وَلَوْ فِي مَفَازَةٍ فَفِي أَقْرَبِ الْأَمْصَارِ إلَيْهِ، فَتْحٌ.

(قَوْلُهُ: وَهُوَ الْأَصَحُّ) أَيْ كَوْنُ الْمُعْتَبَرِ فِي السَّوَائِمِ يَوْمَ الْأَدَاءِ إجْمَاعًا هُوَ الْأَصَحُّ فَإِنَّهُ ذَكَرَ فِي الْبَدَائِعِ أَنَّهُ قِيلَ إنَّ الْمُعْتَبَرَ عِنْدَهُ فِيهَا يَوْمُ الْوُجُوبِ، وَقِيلَ يَوْمُ الْأَدَاءِ. اهـ.

وَفِي الْمُحِيطِ: يُعْتَبَرُ يَوْمُ الْأَدَاءِ بِالْإِجْمَاعِ وَهُوَ الْأَصَحُّ اهـ فَهُوَ تَصْحِيحٌ لِلْقَوْلِ الثَّانِي الْمُوَافِقِ لِقَوْلِهِمَا، وَعَلَيْهِ فَاعْتِبَارُ يَوْمِ الْأَدَاءِ يَكُونُ مُتَّفَقًا عَلَيْهِ عِنْدَهُ وَعِنْدَهَا".

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا". (ج2، ص: 22، ط: دارالكتب العلمية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے