بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے پاس صرف سونا ہوتو کتنی مقدار پرزکات ہوگی؟ زکات بیوی پر لازم ہوگی یا شوہر دے سکتاہے؟


سوال

 اگر بیوی کے پاس سونا ہو اور اس کی ملکیت میں کچھ نہ ہو، نہ چاندی نہ نقدی اورنہ ہی مالِ تجارت تو اس پر کتنے تولے پر زکات فرض ہو گی؟ اور وہ خود ادا کرے یا شوہر اس کی طرف سے ادا کرے؟ اور ساتھ یہ بھی وضاحت کردیں کہ آج کے دور میں ہر گھر میں کپڑے اور برتنوں کا ڈھیر لگا ہوتا ہے کتنے کپڑے اور کتنے برتن ضرورت سے زائد شمار ہوں گے؟

جواب

اگر کسی کی ملکیت میں صرف سوناہو اس کے علاوہ کوئی نقد، چاندی یا مالِ تجارت نہ ہو تو زکات لازم ہونے کےلیے ساڑھے سات تولہ سونا ہونا ضروری ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ نقدی،چاندی یا مالِ تجارت میں سے بھی کچھ ملکیت میں ہو تو ساڑھے سات تولہ کا اعتبار نہیں، بلکہ اگر ان مملوکہ اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔

بیوی کے مال کی  زکات بیوی پر ہی لازم ہے، شوہر پر نہیں، البتہ اگرشوہر  بیوی کو بتاکر اس  کی طرف سے زکات ادا کرے تو ادا ہوجائے گی۔

ضرورت کے برتنوں اور کپڑوں میں کوئی خاص عدد مقرر نہیں، لیکن جو سامان  سال بھراستعمال مٰیں نہیں آتا وہ ضرورت سے زائد شمار ہوگا۔ اور جو سال میں کسی موقع پر استعمال ہوتا ہو وہ ضرورت میں داخل ہے خواہ کتنی ہی تعداد میں کیوں نہ ہو۔

باقی ان زائد اشیاء (برتن وغیرہ) پر زکات  تو اجب نہیں ہوگی؛ کیوں کہ زکات کے وجوب کے لیے مال کا نامی (بڑھنے والا) ہونا ضروری ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ جانور ہیں۔ البتہ اگر کسی کے پاس ضرورت سے زائد اتنا سامان (برتن وغیرہ) ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اس کے لیے زکات وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور  ایسے شخص پر قربانی اور صدقہ فطر بھی واجب ہوں گے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 348):
"قلت: وسألت عن المرأة هل تصير غنيةً بالجهاز الذي تزف به إلى بيت زوجها؟ والذي يظهر مما مر أن ما كان من أثاث المنزل وثياب البدن وأواني الاستعمال مما لا بد لأمثالها منه فهو من الحاجة الأصلية وما زاد على ذلك من الحلي والأواني والأمتعة التي يقصد بها الزينة إذا بلغ نصابا تصير به غنية، ثم رأيت في التتارخانية في باب صدقة الفطر: سئل الحسن بن علي عمن لها جواهر ولآلي تلبسها في الأعياد وتتزين بها للزوج وليست للتجارة هل عليها صدقة الفطر؟ قال: نعم إذا بلغت نصاباً".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 348):
"ولو له كسوة الشتاء وهو لايحتاج إليها في الصيف يحل ذكر هذه الجملة في الفتاوى. اهـ".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے