بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم چوری ہو جانے کا حکم


سوال

 میں نے زکاۃ  کی رقم مولانا صاحب کو ادا کر دی اور ان کو یہ رقم اپنے گاؤں میں کسی شخص کو ادا کرنی تھی۔اب ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ رقم مولانا صاحب نے ایزی پیسہ کے ذریعہ جن صاحب کو دی ان سے وہ رقم چوری ہو گئی، اب آپ بتائیں کہ کیا میری زکاۃ ادا ہو گئی؟  یا مجھےیہ زکاۃ دوبارہ ادا کرنی ہو گی؟

جواب

آپ نے زکاۃ  کی جو رقم مولانا صاحب کو دی تھی اگر وہ ایزی پیسہ کے ذریعہ مستحق کے ہاتھ تک پہنچ گئی تھی اور اسی مستحق سے چوری ہوئی تو ایسی صورت میں آپ کی زکاۃ ادا ہو گئی۔ اور اگر ابھی تک مستحق کے ہاتھ میں نہیں پہنچی تھی تو ایسی صورت میں زکاۃ  ادا نہیں ہوئی، اور زکاۃ دوبارہ ادا کرنی ہو گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے