بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ میں سال گزرنے کا اعتبار


سوال

میں ہر مہینے اپنی تنخواہ میں سے کچھ رقم محفوظ کرتا ہوں اور اس کو سونا، کرنسی یا کیش میں انویسٹ کرتا ہوں، جس کی مارکیٹ ویلیو اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، میں ہر سال یکم جنوری کو  زکات کی رقم اپنے کل سرمایہ کی مارکیٹ ویلیو  کی ڈھائی فیصد کے مطابق نکال دیتا ہوں، سوال یہ ہے کہ آیا جو رقم میرے پاس 31 دسمبر 2018 کو جمع تھی اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے نکالوں یا 31 دسمبر 2019 کے حساب سے جمع شدہ رقم اور اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے نکالوں؟

جواب

زکات شمسی سال (یعنی جنوری وغیرہ مہینوں کے اعتبار سے سال) گزرنے کی بجائے قمری سال (محرم، صفر وغیرہ مہینوں سے سال) گزرنے کے بعد ادا کیا کریں، لہذا آپ حساب لگالیجیے کہ آپ جس سال صاحبِ نصاب ہوئے تھے، ان دنوں میں کون سا قمری مہینہ اور اس کی کون سی تاریخ تھی، اگر متعینہ طور پر معلوم ہوجائے تو بہتر، ورنہ قمری مہینہ کا اندازا تو امید ہے ہوہی جائے گا،  پھر اسی قمری تاریخ کے اعتبار سے ہرسال اس دن جتنی مالیت ہو اسی وقت کی ویلیو کے اعتبار سے زکات ادا کرنی ہوگی، گزشتہ سال کی ویلیو کا اعتبار نہیں ہوگا، اگر سابقہ سالوں کا اندازا مشکل ہو تو احتیاطاً کچھ رقم اوپر دے دیں۔

مثلاً اگر کوئی شخص رمضان المبارک کی یکم تاریخ کو زکات ادا کرتا ہے تو 1439 کی زکات یکم رمضان المبارک 1439 کو موجود سرمایہ کی ادا کرنی ہوگی، جب کہ 1440 کی زکات اس مال کی ادا کرنی ہوگی جو یکم رمضان المبارک 1440 کو موجود ہو، اور اسی وقت کی ویلیو کے مطابق زکات ادا کی جائے گی۔  فقط وا للہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے