بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

 زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کا حکم


سوال

 زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کا کیا حکم ہے؟کیوں کہ کچھ حضرات یہ فرماتے ہیں کہ زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کرنا اس لیے درست نہیں کہ اس تولنے میں خون کی بیع بھی ہوجاتی ہے جو کہ حرام ہے جب کہ بنوری ٹاؤن کے ہی فتوی نمبر : 143811200072 میں قربانی کے جانور کوتول کر اس کی بیع جائز بتائی گئی ہے۔ مہربانی فرما کر مسئلہ کی وضاحت فرمائیں!

جواب

مذکورہ اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں؛ کیوں کہ زندہ جانور (مثلاً قربانی کا جانور) بغیر تولے بیچا جائے تب بھی مبیع (جانور)  میں خون موجود ہوتاہے؛ جب بغیر تولے زندہ جانور کی بیع مع خون جائز ہے تو اسے تول کر  بیچنا اور خریدنا بھی جائز ہے؛  درحقیقت دونوں صورتوں میں مقصود جانور (گوشت وغیرہ) کی خریدو فروخت  ہوتی ہے، خون کی بیع کا قصد نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200674

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے