بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں اپنا مال تقسیم کرتے ہوئے برابری نہ کرنا


سوال

اگر ماں باپ اپنی زندگی میں وراثت تقسیم کردیں اور اپنے دو بیٹوں کو محروم رکھیں اور دوسرے دو بیٹوں کو جائیداد کا مالک و مختار بنادیں جب کہ وہ شرابی اور عیاش قسم کے ہوں اور جو  4بیٹیاں ہیں ان کو یہ کہہ کر جائیداد سے محروم رکھا جائے کہ تم سب کو ہم نے جہیز میں بہت کچھ دیا ہے، اسلام کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے?

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں اپنا مال اولاد میں تقسیم کرتے ہوئے برابری کرنا اور سب کو دینا ضروری ہے کسی کو دینا اور کسی کو محروم رکھنا یا کسی شرعی وجہ ترجیح کے بغیر  کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا جائز نہیں، ایسا کرنے والا گناہ گار ہے۔  تاہم اگر کوئی غیر منصفانہ تقسیم کرتے ہوئے اولاد میں سے کسی کو اپنے مال میں سے کچھ دے کر اس کا قبضہ بھی دے دے تو اس کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً والدین نے اولاد کو گفٹ کرنے میں غیر منصفانہ طریقہ اختیار کیا ہے تو ان کا یہ طرزِ عمل شرعاً درست نہیں ہے، اگرچہ وہ بعض اولاد کو اپنی  جائیداد کا مالک و مختار بناچکے ہیں تب بھی ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ رجوع کرکے اولاد میں برابری کے ساتھ تقسیم کریں، جیساکہ صحیح مسلم کی روایت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو رجوع کا حکم دیا تھا کہ اپنے صرف ایک بیٹے نعمان رضی اللہ عنہ کو  جو ہدیہ دیا ہے اس میں رجوع کریں۔ تاہم اگر وہ رجوع نہیں کرتے اور سابقہ تقسیم کو برقرار رکھتے ہیں تو اولاد میں سے جن کو جائیداد مالک بناکر قبضے میں دے دی گئی ہے وہ مالک ہوجائیں گے۔ ایسی صورت میں محروم رہ جانے والی اولاد کو چاہیے کہ وہ صبر کرے اور والدین کے حقوق کی ادائیگی میں پھر بھی کوتاہی نہ کرے۔ 

رد المحتار - (4 /444):
"أقول : حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: { سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال}. رواه سعيد في سننه. وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير:{ اتقوا الله واعدلوا في أولادكم}. فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى؛ لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة: لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين، وإن كانوا سواء يكره. وروى المعلى عن أبي يوسف: أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے