بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

زمین گھومتی ہے یا سورج چاند


سوال

کیا زمین گھومتی ہے یا نہیں؟  قرآنِ مجید میں کیا فرماتے ہیں  زمین گھومتی ہے یا سورج؟ سائنس کہتی  ہے کہ سورج سے زمین گھومتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پیغمبرانہ تعلیمات و تعبیرات کے متعلق یہ اصولی بات سمجھ  لینا ضروری ہے کہ آسمانی کتابیں اور اس کے لانے والے انبیاء (علیہم السلام) خلقِ خدا کو آسمان و زمین کی مخلوقات میں غور و فکر اور تدبر کی طرف مسلسل دعوت دیتے ہیں، اور ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود، توحید اور علم وقدرت پر استدلال کرتے ہیں، مگر ان چیزوں میں تدبر اسی حد تک مطلوبِ شرعی ہے جس حد تک اس کا تعلق انسان کی دنیوی اور معاشرتی ضرورت سے یا دینی اور اخروی ضرورت سے ہو۔ اس سے زائد نری فلسفیانہ تدقیق اور حقائقِ اشیاء کے کھوج لگانے کی فکر میں عام خلق اللہ کو نہیں ڈالا جاتا؛ کیوں کہ اول تو حقائقِ اشیاء کا مکمل حقیقی علم خود حکماء و فلاسفہ کو بھی باوجود عمریں صرف کرنے کے نہیں ہوسکا،  بے چارے عوام تو کس شمار میں ہیں!  پھر اگر انہیں کچھ حاصل بھی ہوجاتا ہے تو یقینی نہیں ہوتا، آئے روز ان کی آراء مختلف ہوتی رہتی ہیں، اور تجربات سے پہلی تحقیقات کا غلط ہونا ثابت ہوتا رہتاہے۔ اور اگر حقائقِ اشیاء کا علم سائنس دانوں کو ہو بھی جائے اور اس سے نہ ان کی کوئی دینی ضرورت پوری ہو اور نہ کوئی صحیح مقصد دنیوی اس سے حاصل ہو تو اس لایعنی اور فضول بحث میں دخل دینا اضاعتِ عمر اور اضاعتِ مال کے سوا کیا ہے! ( مستفاد از معارف القرآن ، مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ)

بہرحال قرآنی آیات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شمس و قمر و جمیعِ کواکب اپنے اپنے محوروں میں زیر گردش ہیں،  تاہم اللہ رب العزت نے زمین کے متحرک ہونے کے حوالے سے تعرض نہیں فرمایا ہے، جیسا کہ مفتی محمدشفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ نے معارف القرآن،  (سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 5) کی تفسیر میں ذکر فرمایا ہے:

’’چاند، سورج دونوں متحرک ہیں:

(آیت) {كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى}،  اس سے معلوم ہوا کہ شمس وقمر دونوں حرکت کرتے رہتے ہیں۔ فلکیات اور طبقات الارض کی مادی تحقیقات قرآنِ پاک یا کسی آسمانی کتاب کا موضوعِ بحث نہیں ہوتا،  مگر اس معاملہ میں جتنی بات کہیں ضمناً  آجاتی ہے، اس پر یقین رکھنا فرض ہے۔ فلاسفر کی قدیم وجدید تحقیقات تو موم کی ناک میں روز بدلتی رہتی ہیں،  قرآنی حقائق غیر متبدل ہیں،  آیت مذکورہ نے جتنی بات بتلائی کہ چاند اور سورج دونوں حرکت کر رہے ہیں، اس پر یقین رکھنا فرض ہے۔  اب رہا یہ معاملہ کہ ہمارے سامنے آفتاب کا طلوع و غروب زمین کی حرکت سے ہے یا خود ان سیاروں کی حرکت سے، قرآنِ پاک نہ اس کا اثبات کرتا ہے، نہ نفی۔ تجربہ سے جو کچھ معلوم ہوا اس کے ماننے میں حرج نہیں‘‘۔ ( معارف)

نیز  اس بحث پر نہ ہی کسی دنیاوی یا اخروی فائدہ کا مدار ہے، لہذا مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی بامقصد گزارے اور ان مباحث کے در پر نہ ہو جن سے اسے نہ دنیاوی فائدہ حاصل ہو اور نہ ہی اُخروی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے