بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جمادى الاخرى 1441ھ- 16 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

رہائش کے لیے جو پلاٹ لیا ہو کیا اس پر زکات ہے؟


سوال

میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے  ایک پلاٹ والدہ کے نام پر سولہ لاکھ میں لیا تھا،  مگر پھر گھر کسی اور جگہ تعمیر کر لیا، اب وہ پلاٹ خالی ہے، کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چوں کہ آپ نے رہائشی  گھر تعمیر کرنے کے لیے  لیا تھا؛  لہذا اس پلاٹ پر کوئی زکات واجب نہیں، البتہ جب کبھی یہ پلاٹ فروخت کریں گے تو اس وقت اس  کی کل آمدن پر زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 143907200150

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے