بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رکشہ برائے فروخت پر زکات واجب ہے؟


سوال

زید کے پاس رکشہ ہے اور وہ اسے کرایہ پر لوگوں کو دیتا ہے، اور وہ کہتا ہےکہ میرا رکشہ کرایہ کے لیے ہے، ہاں اگر اچھا خریدار ملا تو فروخت بھی کردوں گا۔ زید کے اس رکشہ پر زکات واجب ہوگییا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں رکشہ کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہے، البتہ کرایہ اگر بچ جاتا ہو اور زید صاحبِ نصاب ہو تو زکات کی تاریخ آنے پر کرایہ کی زکات بھی اداکردیا کرے۔ جب رکشہ فروخت کردیا تو  اس کی قیمت کو دیگر قابلِ زکات مال کے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے