بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں حیض آجانے کا حکم


سوال

 حالتِ روزہ میں عورت کو بعد از ظہر حیض آجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں اگر مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عورت کو حیض آجائے تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور پاک ہونے کے بعد اس روزے کی قضا رکھنا لازم ہوگا،  جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو، اسے کھانا پینا چاہیے، یعنی روزہ داروں کی مشابہت کی وجہ سے تنہائی میں بھی بھوکی پیاسی نہ رہے۔

"وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، والتشبه بالحرام حرام". (طحطاوی علی المراقی : ص : ۳۷۰ )

البتہ اس کے برعکس اگر حائضہ عورت دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔ 
’’یجب علی الصحیح، و قیل: یستحب الإمساك ... وعلی حائض و نفساء طهرتا بعد طلوع الفجر‘‘. (مراقی الفلاح : ص : ۳۷۰) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں