بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے میں بھول کر کھانا


سوال

 میں نے کچھ نفلی روزے رکھے تھے، جن میں ایک دن کسی کام سے باہر گیا تو کسی نے چائے پیش کی، میں روزہ بھول گیا اور غلطی سے پی لی، بعد میں یاد آیا تو پریشان ہوا، پھر مسئلہ پڑھا اور کسی نے بتایا کہ بھول سے نہیں ٹوٹتا, دوسرے دن زکام سے ناک بند تھا تو پھر غلطی سے ناک میں سپرے کر دیابعد میں یاد آیا کہ روزہ تھا دوائی کی بو بھی بعد میں کچھ دیرتک محسوس ہوتی رہی,مگر اب دوبارہ بھول ہو گئی تھی, اب روزہ رہا یا فاسد ہو گیا?

جواب

 بھول کر کھانے سےیا پینے سے یا بھول کر دوائی کھالینے سے  روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو روزے میں بھول کر کھا، یا پی لے، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے؛ اس لیے کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

"مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ".(الصحیح لمسلم، کتاب الصيام، باب أکل الناسي وشربه وجماعه لا يفطر، 2 : 809، رقم :  1155) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200973

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں