بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

روزہ نہ رکھنے والے کا تراویح پڑھانا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے  میں کہ:

تراویح پڑھانے والا اگر روزہ نہ رکھے تو کیا وہ تراویح پڑھا سکتا ہے؟ روزہ نہ رکھنا اگر مجبوری کی وجہ سے ہو تو کیا حکم ہے؟ اگر بغیر مجبوری کے ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

تراویح پڑھانے والا اگر کسی عذر شرعی ( مثلاً سفر یا مرض وغیرہ ) کی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو  اس کے تراویح پڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہ رکھتا ہو تو شریعت کی نظر میں فاسق ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کی نماز کی امامت کا اہل نہیں ہے، لہٰذا ایسا شخص جب تک توبہ کرکے روزہ رکھنا شروع نہ کرلے ایسے شخص کو امام بناکر اس کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201142

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے