بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رقم انویسٹ کرکے فکس نفع لینا / زکاۃ کی رقم سے بچوں کی فیس ادا کرنا


سوال

 1. زید نے بکر کو ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی رقم دی کہ اس کو کسی کاروبار میں لگا لیجیے اور ماہانہ منافع مجھے دے دیا کریں۔بکر نے زید کی رقم اور کچھ اپنے پاس سے رقم ملا کر ایک گاڑی کا سودا کیا ہے اور زید سے ہر ماہ 1400 روپے ماہانہ اور سال کے آخر میں 140000 روپے واپس کرنے کا معاملہ طے پاگیا ہے۔ کیا شرعاً یہ معاملہ درست ہے ؟ اور اگر کچھ سقم ہے تو برائے مہربانی اس معاملہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں درست فرما دیں۔

2. کیا کوئی خاتون اپنی زکاۃ کے پیسوں سے اپنے بچوں کی مدرسے کی فیس ادا کر سکتی ہے، جب کہ شوہر مقروض اور ضرورت مند ہو؟

جواب

1..شرکت (مثلاً دو افراد کا مشترکہ طور پر کاروبار کرنا ) یا مضاربت(ایک شخص کی محنت اور دوسرے کا سرمایہ) میں بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ نفع کی تقسیم فیصد کی صورت میں ہو، رقم دے کر اس پر ماہانہ فکس/مقرر منافع لینا شرعاً ناجائز  ہے، لہذا زید کا ایک لاکھ چالیس ہزار دے کر ماہانہ فکس1400 لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔  کاروبار کی جائز صورت یہ ہے کہ زید ایک لاکھ چالیس ہزار روپے دے کر  عقد کے وقت  دونوں فریق باہمی رضامندی سے یہ طے کرلیں کہ اس رقم سے جو بھی نفع ہوگا، اس کا اتنا فیصد زید کا ہوگا اور اتنا فیصد بکر کا ہوگا،اسی طرح اگر دونوں نے پیسے ملاکر گاڑی خریدی ہے اور اس پر کام صرف بکر کررہا ہے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ اس میں بھی عقد کے وقت منافع کا فیصد کے حساب سے مقرر ہونا ضروری ہے۔

نیز سال کے آخر میں متعینہ طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار روپے واپس کرنے کی ضمانت دینا بھی شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ شرکت یا مضاربت میں دی ہوئی رقم امانت ہوگی، اس لیے معاملہ جائز ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ عقد کے وقت طے کیا جائے کہ معاہدے کی مدت پوری ہونے (مثلاً سال کے اختتام) پر حساب کیا جائے گا، اگر اصل سرمایہ اور اس کے ساتھ نفع بھی ہو تو دونوں کا سرمایہ انہیں مکمل مل جائے گا اور نفع کی تقسیم فیصدی تناسب سے ہوگی۔ اور اگر  مدت کے اختتام پر نفع ہی نہ ہو، صرف سرمایہ بچے تو بغیر نفع کے صرف سرمایہ واپس کیا جائے گا۔ اور  خدانخواستہ معاہدے کے اختتام پر کوئی نفع بھی نہیں ہوا، اور بکر کی کسی غلطی یا کوتاہی کے بغیر سرمائے کا بھی نقصان ہوگیا تو نقصان دونوں کو سرمائے کے تناسب سے برداشت کرنا ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ عقد کے وقت سرمائے کے تحفظ کی یقین دہانی جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے معاملہ شرکت یا مضاربت کے بجائے قرض کا ہوجائے گا، گویا زید بکر کو سال کی مدت کے لیے رقم قرض دے رہاہے جو سال کے اختتام پر پوری رقم واپس لے گا، مزید برآں وہ اس سے نفع بھی وصول کرے گا، جو کہ صراحتاً سود ہے۔

2۔ زکاۃ کسی مسلمان مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکردینے سے ادا ہوتی ہے، نیز زکاۃ اپنے اصول (ماں، باپ، دادا وغیرہ)  یا فروع (اولاد)  اور شوہر کو دینا درست نہیں ہے، اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوتی، لہذا بچوں کی فیس میں زکاۃ کی رقم دینے سے مذکورہ عورت کی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 648):
" (وكون الربح بينهما شائعاً) فلو عين قدراً فسدت".

الفتاوى الهندية (2 / 302):
" وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولاً تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءاً شائعاً في الجملة لا معيناً، فإن عينا عشرةً أو مائةً أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً، كذا في البدائع". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے