بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کے چھوٹے بھائی سے نکاح جائز ہے


سوال

ہماری والدہ نے کسی کی بچی کو دودھ پلایا تھا اور اب وہ لوگ اس لڑکی کے چھوٹے بھائی کے لیے ہمارے ہاں رشتہ مانگ رہے ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

آپ کی والدہ نے جس بچی کو دودھ پلایا تھا، اور اب اس بچی کے گھر والے اس بچی کے چھوٹے بھائی کے لیے اگر آپ کی بہن (آپ کی والدہ کی بیٹی) کا رشتہ مانگ رہے ہیں تو  یہ رشتہ جائز ہے؛ کیوں کہ رضاعت کا رشتہ صرف اس بچی سے ثابت ہوا تھا، اس کے چھوٹے بھائی سے نہیں۔ (فتاوی شامی، ۳/۲۱۳-۲۱۴، سعید )

الدر:

"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) …(إلا أم أخيه وأخته)".

الرد:

"(قوله: وأم أخت) صادق … بأن تكون الأم فقط من الرضاع كأن تكون لك أخت نسبية لها أم رضاعية، بخلاف النسبية؛ لأنها إما أمك أو حليلة أبيك".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200255

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے