بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

رخصتی کے پہلے ہی روز تعلق قائم کرنا /ولیمہ کی مدت


سوال

کیا رخصتی کے پہلے روز ہی بیوی سے قیام تعلق کرنا ضروری ہے؟ نیز ولیمہ کب تک کر سکتے ہیں؟  آج کل لوگ مہینوں بعد بھی کرتے ہیں، ان کے لیے حکمِ شرع کیا ہوگا ؟

جواب

1- رخصتی ہی کے روز بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ضروری نہیں، تاہم ولیمہ سے قبل تعلقات قائم کرلینا بہتر ہے۔ 

2- ’’ولیمہ‘‘  اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو میاں بیوی کے  اکٹھا ہونے یعنی شبِ زفاف  کے بعد   کھلایا جاتا ہے، شبِ زفاف کے تیسرے دن تک حدیث شریف سے ولیمہ کا ثبوت ہے، اگر شبِ زفاف کے بعد پہلے دن انتظام ہوسکتا ہو تو سب سے بہتر پہلا دن ہے، تیسرے دن کے بعد ولیمہ کرنا فقط ضیافت شمار ہوگی۔

اگر مہمان زیادہ ہوں، یا کسی مقام کا عرف ایک ہی دفعہ ولیمہ منعقد  کرکے مہمانوں کو بلانے کے بجائے  یہ ہو  کہ یکے بعد دیگرے مہمان آتے ہوں اور کھا کر چلے جاتے ہوں تو مستقلاً تین دن تک بھی ولیمہ کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے،  حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح میں اسی طرح تین دنوں تک ولیمہ فرمایا ہے، الغرض ولیمہ ایک دن میں کر دیا جائے یا عرف کے مطابق مسلسل تین دنوں تک دونوں درست ہیں، لیکن مسلسل تین دن تک کھانا کھلانے میں یہ شرط ملحوظ رہے کہ اس میں دکھلاوا یا اسراف نہ ہو، بلکہ حسبِ استطاعت سنت کے اتباع کی نیت سے اس معاملے کو انجام دیا جائے۔ ایک حدیث میں ہے: ’’پہلے دن ولیمہ حق ہے، دوسرے دن نیکی ہے، اور (مسلسل) تیسرے دن سناوا اور دکھلاواہے‘‘۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں