بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل بیٹی کی طرف سے قربانی والد پر لازم ہے یا شوہر پر ؟


سوال

میں نے اپنی  بیٹی کا نکاح اس سال فروری 2019 میں کیا ہے، مگر ابھی بیٹی کی رخصتی نہیں کی، بیٹی کی رخصتی دسمبر 2019 کو ہوگی،  مجھے سوال یہ پوچھنا تھا کہ اس سال میری بیٹی کی طرف سے قربانی میرے داماد پر واجب ہے یا ابھی میرے یعنی والد کے اوپر واجب ہے ؟

 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ کی بیٹی صاحبِ  نصاب ہے (یعنی اس کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی ، مال تجارت، یا ضرورت سے زائد سامان  کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر یا اس سے زیادہ  عید الاضحیٰ کے ایام میں موجود ہے) تو  خود اس پر قربانی کرنا واجب ہے،  بیٹی کی طرف سے قربانی کرنا اس کے والد یا شوہر پر لازم نہیں ہے، البتہ اگر  والد اپنی  بیٹی  یا شوہر اپنی بیوی کی  اجازت سے اس سے پیسے لے کر، یا اپنی خوشی سے خود اپنی طرف سے اسے بتاکر اس کے لیے  قربانی کردیں تو اس کی واجب قربانی ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے