بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

دکان دار کا کسٹمر کو مال کی خریداری پر زیادہ کا بل بناکر دینا


سوال

میری آٹو  پارٹس کی دکان ہے،  بعض کسٹمر مال کی خریداری 2000 کی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 3000 کا بل بناؤ یا 2500، اور اپنی دکان کا لیٹر ہیڈ والا بناؤ، تو پوچھنا یہ تھا کہ یہ صحیح ہے یا غلط ؟

جواب

کسی کمپنی یا شخص کا ملازم جو کمپنی یا شخص کے لیے کوئی چیز خریدتا ہے تو اس ملازم کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے، اور وکالت کی بنیاد امانت پر ہوتی ہے، چنانچہ وکیل اپنے موکل کے لیے جو چیز جتنے روپے کی خریدے گا اتنے ہی پیسے اپنے موکل سے لے سکتا ہے، لہذا وکیل کا خریدے ہوئے سامان سے زیادہ بل بنوانا   جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہےاوردکان دار کا زیادہ کا بل بناکر دینا بھی گناہ کے کام پر تعاون کی وجہ سے  ناجائز ہے، لہٰذا اگر وہ کسٹمر کسی کمپنی یا ادارے کا نمائندہ ہو یا کسی شخص کا اسی کام کے لیے ملازم ہو تو آپ کے لیے اس طرح زائد رقم کا بل بناکر دینا جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201183

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے