بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دکان خرید کر نقصان بائع پر ڈالنا


سوال

چار بھائیوں کو وراثت میں دوکان ملی،ایک بھائی نے رقم لگا کر تین بھائیوں کا حصہ خرید لیا، اب وہ دوکان ٹوٹ گئی کسی وجہ سے، کیا اب وہ تین بھائی اس ایک بھائی کو کچھ دیں گے شرعی حیثیت سے یا نہیں؟

جواب

اگر واقعۃً  وہ تین بھائیوں سے ان کا حصہ خرید چکا ہے، تو اب دکان میں جو نقصان ہوا ہے وہ خریدنے والے  بھائی کا ہے ۔باقی بھائی نقصان کے ذمہ دار نہیں۔

’’وأشار بقوله: للمشتري أن یبیع ... الخ إلی أن بیعه جائز، لکن لایلزم من جواز البیع نفاذه ولزومه؛ فإنهما موقوفان علی نقد الثمن أو رضي البائع وإلا فللبائع إبطال بیع المشتري‘‘. (شرح المجلة لخالد الاتاشي ص١٧٣)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے