بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دکانوں کے آگے ٹھیلے لگانا


سوال

ہمارے شہر میں یہ عام ہے کہ ٹھیلے والا جس دکان کے آگے کھڑا ہوگا ،دکاندار اس سے ہردن کا کرایہ لیتا ہے ۔ وہ جگہ تو سرکاری ہے، گزرنے کی جگہ ہے۔ فری میں کھڑے ہونے نہیں دیں گے ،اس لیے کہ دکان کے آگے جگہ کھلی ہو تو بہتر ہے تا کہ گاہکوں کو اچھی طرح دکان نظر آئے۔ دکان کے آگے کھڑا ہونے کی وجہ سے دکان دار کے لیے ٹھیلے والے سے کرایہ لینا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

دکانوں کے آگے سرکاری جگہ جو دوکانوں کی سرکاری حدود میں نہیں آتی وہاں اگر کوئی  ٹھیلہ لگاتا ہے تو دوکان دار اس سے کچھ وصول نہیں کرسکتا۔البتہ اگروہ جگہ عام گزرگاہ ہے اور وہاں ٹھیلہ لگانے سے لوگوں کی آمدورفت میں خلل واقع ہوتا ہے تووہاں ٹھیلہ لگانا ناجائز ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143802200037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے