بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1442ھ- 26 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دو طلاقوں کے بعد رجوع


سوال

میں نے ایک بار سخت غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دی تھی، اس کے علاوہ نکاح کے بعد سے طلاق نہیں دی ہے۔ میری بیوی ابھی 7 ماہ کے حمل سے ہے۔ ابھی ہمارا نکاح برقرار ہے؟ وہ 15 دن سے اپنے والدین کے گھر میں ہے اور 20 دن سے ہمارا کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا ہے،  میں اس سے معافی بھی مانگ چکا ہوں، ہمارے معاملات اب سنبھل گئے ہیں اور ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ کیا میری بیوی میرے لیے حلال ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ نے دو طلاقِ رجعی دی تھیں تو  آپ کی بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے آپ قولی رجوع (یعنی یہ الفاظ کہنا کہ "میں رجوع کرتا ہوں" یا اس طرح کے الفاظ کہنا) یا فعلی رجوع (یعنی شہوت سے بیوی کو چھونا یا بھوسہ دینا وغیرہ) کر سکتے ہیں۔ بہتر صورت یہ ہے کہ دو گواہوں کے سامنے قولی رجوع کرلیں۔

طلاق کے وقت آپ کی بیوی حمل سے تھی تو  بچہ جننے تک عدت ہے، اگر اب تک رجوع نہیں کیا تو بچے کی پیدائش سے پہلے رجوع کرسکتے ہیں۔  اور اگر طلاق کے وقت بیوی حمل سے نہیں تھی تو بیوی کی عدت تین مرتبہ ایامِ حیض گزرنا تھا، اگر اس دوران آپ نے زبانی یا عملی طور پر رجوع کرلیا تھا تو رجوع ہوچکا ہے، اگریہی صورت تھی تو  بیوی کے حمل ٹھہرنا عملی رجوع کی علامت ہے۔  اور اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو بعد از عدت باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، بہرحال رجوع یا تجدید کے بعد آئندہ آپ کو صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 398):
"وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200652

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں