بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دورانِ وضو اگر جگہ تبدیل کردی تواز سرنو وضو لازم نہیں


سوال

کیا یہ صحیح ہے کہ وضو مکمل ہونے سے پہلے اگر مجلس تبدیل کردی یا کوئی حصہ دھونے کے بھول جانے سے اگر چلا گیا اور واپس لوٹ آیا تو وضو شروع سے کرنا پڑے گا؟

جواب

پے در پے وضو کرنا سنت ہے، یعنی ایک عضو خشک نہ ہونے پائے کہ آدمی دوسرے عضو کو دھولے۔بلاکسی عذر کے اس کے خلاف کرناسنت کا ترک کرناہے۔البتہ اگر وضو مکمل ہونے سے قبل مجلس تبدیل کردی اور بقیہ وضو الگ جگہ کیا یاکوئی حصہ خشک رہ گیاتھا اورجگہ تبدیل کرنے کے بعد یاد آیاتو دوسری جگہ پر بھی بقیہ اعضاء یاخشک حصہ دھولینے سے وضوہوجائے گا، مجلس کی تبدیلی سے مکمل وضو دوبارہ کرنا لازم نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

" (وإن غسل بعض أعضائه ، وترك البعض حتى جف ما قد غسل أجزأه ؛ لأن الموالاة سنة عندنا )... ( ولنا ) ما بينا أن المقصود تطهير الأعضاء ، وذلك حاصل بدون الموالاة ، والمنصوص عليه في الكتاب غسل الأعضاء فلو شرطنا الموالاة كان زيادة على النص ، وقد بينا أن مواظبة رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تكون لبيان السنة". (1/162)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"( ومنها الموالاة ) وهي التتابع وحده أن لا يخف الماء على العضو قبل أن يغسل ما بعده في زمان معتدل ولا اعتبار بشدة الحر والرياح ولا شدة البرد ويعتبر أيضا استواء حالة المتوضئ كذا في الجوهرة النيرة ." (1/89)

وفیہ ایضاً:

"ولو بقيت على العضو لمعة لم يصبها الماء فصرف البلل الذي على ذلك العضو إلى اللمعة جاز .كذا في الخلاصة". (1/36)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں