بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دودھ کے کاروبار میں ایڈوانس رکھنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں :

ہمارے ہاں بھینس کالونی میں دودھ کی سالانہ بندی کا معاہدہ کچھ اس طور پر طے پاتا ہے کہ باڑے والا(بائع)دُودھی (مشتری)سے یہ طے کر لیتا ہے کہ میں پورا سال (روزانہ کی چوھائی کے حساب سے)آپ کو دودھ دیتا رہوں گا اور دودھ کی قیمت کی ادائیگی ہر دس دن بعدہوتی رہے گی،علاوہ ازیں فی من دودھ پر مثلاً دولاکھ ایڈوانس کی ادائیگی اس کے علاوہ ہوگی،یعنی اگر مثلاً کسی باڑے کا دودھ روزانہ کا بیس من ہے تو روزانہ کے دودھ کی قیمت کے علاوہ (جس کی ادائیگی ہر دسویں دن ہوتی ہے)چالیس لاکھ ایڈوانس بھی ملے گا، یہ ایڈوانس پورا سال باڑے والے کے زیر استعمال رہتا ہے، البتہ سال کے اختتام سے پہلے اس کی دودھی کوواپس کرنےکی ترتیب بنائی جاتی ہے۔

ہمارےہاں مقامی علماء نےا یڈوانس کی شرعی حیثیت کی تعیین کےلیےغورکیاہے، جس میں چندصورتیں سامنےآئی ہیں اوران صورتوں پرتبصرہ بھی درج ذیل ہے:

1)اگراس ایڈوانس کوسیکورٹی ڈپازٹ یارہن قراردیاجائےتومسئلہ یہ ہےکہ شے  مرہون سےانتفاع جائزنہیں ،جب کہ یہ ایڈوانس ساراسال باڑےوالےکےزیراستعمال رہتاہے،لہذارہن قراردےنہیں سکتے۔

2)اگرایڈوانس کوامانت قراردیاجائےتومسئلہ یہ ہےکہ امانت توحفاظت سےرکھنےکانام ہے جس کی سبیل یہاں ممکن نہیں، دوسرایہ کہ بدونِ استہلاک امین بھی ضامن نہیں ہوتا جب کہ یہاں ہلاک واستہلاک بہرصورت باڑےوالا اس ایڈوانس رقم کی واپسی کاپابندہوتاہے۔

3)ایڈوانس کومحض تبرع قراردیاجائے،لیکن تبرع میں توواپسی مشروط نہیں ہوتی، لیکن یہاں ایڈوانس کی واپسی شرط ہوتی ہے۔

4)ایک صورت یہ ہےممکن ہےکہ ایڈوانس کوقرض قراردیاجائے،پھرسوال یہ پیداہوگاکہ دودھ کی بیع میں (ایڈوانس کی صورت میں )قرض لینےکی شرط شرطِ فاسد ہے،جس سےنفسِ بیع ہی فاسد ہوجائے، لیکن چوں کہ ایڈوانس رقم کی وصولی یہاں بھینس کالونی کی پوری دودھ مارکیٹ کارواج بن چکاہےاوربعض فقہائےکرام کی تصریح کےمطابق جب مارکیٹ میں کسی شرطِ فاسدکارواج بن جائےتواس سےبیع فاسدنہیں ہوتی (جیساکہ حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ نےبھی تقریرِ ترمذی  میں اس کی تصریح کی ہے)کےتحت (ایڈوانس کی فقہی حیثیت قرض متعین کرکےمارکیٹ رواج کااعتبارکرکے)اس بیع کوجائزرکھاجائے۔

آں جناب سےگزارش ہے کہ ازراہِ کرم اس مسئلہ پرغورفرماکرقابلِ عمل حل تجویز فرمائیں!

جواب

مذکورہ صورت میں حالات اور استعمال کے اعتبار سے چوتھی تکییف ہی درست ہے،یعنی کہ مشتری  بیچنے والے کو رقم دیتا ہے جو ابتداءً امانت اور انتہاءً قرض ہوتی ہے، جیسا کہ کرا یہ داری کے معاملات میں ہوتا ہے، نیز جس قدر رقم ادھار پر دودھ دیا ہے، مذکورہ صورت میں دس دن  کے دودھ کی قیمت ، اس حد تک تو یہ ایڈوانس لینا مقتضائے عقد کے مطابق بھی ہے، اس لیے کہ بائع کا اتنا قرض مشتری کے ذمہ بھی ہے۔ 

اور دودھ کے کام کی نوعیت یہ ہے کہ اگر کسی دن لینے والا پہلے سے موجود نہ ہو تو اس دن کا تمام دودھ ذخیرہ کرنا پڑتا ہے جس کے لیے بہت سے انتظامات کی ضرورت ہے ، اگر کسی کے پاس یہ انتظام نہ ہو تو اس دن کا دودھ ضائع کرنا پڑتا ہے۔لہذا اس غرض کے لیے اگر مشتری سے ایڈوانس لیا جائے اور پوری مارکیٹ ہی اس طرح ایڈوانس لیتی ہو تو یہ شرطِ فاسد نہیں ہے، نہ ہی یہ بیع فاسد ہوگی۔

جب دونوں کا معاہدہ ختم ہو تو اگر مشتری کی ادائیگی باقی ہو تو اس ایڈوانس میں سے منہا کرلیا جائے، اور مابقی ادا کردیا جائے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 172):

"وكذلك إن كان مما لايقتضيه العقد ولايلائم العقد أيضاً لكن للناس فيه تعامل فالبيع جائز، كما إذا اشترى نعلاً على أن يحذوه البائع أو جراباً على أن يخرزه له خفاً أو ينعل خفه والقياس أن لايجوز، وهو قول زفر - رحمه الله -. (وجه) القياس أن هذا شرط لايقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد العاقدين وإنه مفسد كما إذا اشترى ثوباً بشرط أن يخيطه البائع له قميصاً ونحو ذلك.

(ولنا) أن الناس تعاملوا هذا الشرط في البيع كما تعاملوا الاستصناع فسقط القياس بتعامل الناس، كما سقط في الاستصناع، ولو اشترى جاريةً على أنها بكر أو طباخة أو خبازة، أو غلاماً على أنه كاتب أو خياط، أو باع عبداً بألف درهم على أنها صحاح أو على أنها جياد نقد بيت المال أو اشترى على أنها مؤجلة فالبيع جائز؛ لأن المشروط صفة للمبيع أو الثمن صفة محضة لايتصور انقلابها أصلاً ولايكون لها حصة من الثمن بحال، ولو كان موجوداً عند العقد يدخل فيه من غير تسمية وإنها صفة مرغوب فيها لا على وجه التلهي، والمشروط إذا كان هذا سبيله؛ كان من مقتضيات العقد، واشتراط شرط يقتضيه العقد لايوجب فساد العقد، كما إذا اشترى بشرط التسليم وتملك المبيع والانتفاع به ونحو ذلك بخلاف ما إذا اشترى ناقةً على أنها حامل أن البيع يفسد في ظاهر الرواية؛ لأن الشرط هناك عين وهو الحمل فلايصلح شرطاً".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 85):
"(لايقتضيه العقد ولايلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدمياً، فلو لم يكن كشرط أن لايركب الدابة المبيعة لم يكن مفسداً كما سيجيء (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد (كشرط أن يقطعه) البائع (ويخيطه قباء) مثال لما لايقتضيه العقد وفيه نفع للمشتري (أو يستخدمه) مثال لما فيه نفع للبائع".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143903200106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے