بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دماغی کیفیت متاثر ہونے کی حالت میں طلاق دینا


سوال

ایک بندہ کو بچپن سے جنات وغیرہ کی وجہ سے جب غصہ آتا ہے تو اسے کوئی  سمجھ نہیں آتی اور اپنا سر دیواروں میں مارتا ہے تقریباً 5  گھنٹہ ہوش میں نہیں ہوتا، اب اس کی بیوی ایک دن ناراض ہو کر چلی گئی،  کچھ دن کے بعد کمرے میں کوئی  چیز ڈھونڈھ رہا تھا دیکھا  کہ بیوی نے الماری کو تالا لگا یا ہوا تھا تو غصے کی وجہ سے اسی عادت کی وجہ سے اس نے طلاقیں  دے دی۔اب کچھ دن کے بعد ماں نے کہاکہ تو نے تو طلاق دی ہے، وہ کہتا ہے مجھے تو پتا ہی نہیں،  تو کیا فرماتے ہیں اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق دینے والا عاقل ہو  یعنی اس کا دماغی توازن ٹھیک ہو، اگر کوئی آدمی ایسا ہے کہ اُس کا دماغی توازن ٹھیک نہ ہو یا ایسی حالت کبھی کبھی اس پر آتی ہو اور وہ اسی حالت میں طلاق کے الفاظ کہہ دے تو ایسے آدمی کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

لہذا سوال میں مذکورہ شخص سے متعلق جو تفصیل لکھی گئی ہے اگر واقعۃً ان کی کیفیت ایسی ہی ہے کہ بعض اوقات اس  کی دماغی کیفیت  درست نہیں ہوتی اور اس بیماری کی حالت کی باتیں ان کو یاد نہیں رہتیں اور ڈاکٹر بھی ان کو بیمار تسلیم کرتے ہیں تو ایسی حالت میں اگر اس نے طلاق کے الفاظ کہہ دیے ہوں تو اس حالت میں طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 353):
"(فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغاً عاقلاً سواء كان حرا أو عبداً طائعاً أو مكرهاً، كذا في الجوهرة النيرة".

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 73):
" عن قتادة قال: «الجنون جنونان، فإن كان لا يفيق، لم يجز له طلاق، وإن كان يفيق فطلق في حال إفاقته، لزمه ذلك»".

الفتاوى الهندية (1/ 353):
"ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش، هكذا في فتح القدير"
. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں