بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دماغی مریض نمازی کے سامنے کھڑا ہو جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر کوئی دماغی مریض نمازی کے آگے اس طرح آجائے کہ سجدہ ہی اس مریض کے سامنے ہو رہا ہو، تو کیا کرنا چاہیے؟ اگر وہ بار بار ایسا کرے تو کیا کریں؟

 

جواب

دماغی مریض کے سامنے آنے سے نماز پر  کوئی اثر نہیں پڑے گااورسامنے آنےوالابھی گناہ گار نہیں ؛ کیوں کہ مریض ہونے کی وجہ سے معذور ہے۔  البتہ ایسی جگہ نماز پڑھنے سے گریز کیا جائے جہاں یہ صورت  پیش آئے۔ نمازی کواپنےسامنےسترہ رکھنا چاہیے یا دیوار یا ستون کی اوٹ میں نمازپڑھنی چاہیے، مگر ایسا کرنے کے باوجود اگر کوئی دماغی خلل میں مبتلاشخص  سامنے آجائے تو نمازی پر گناہ نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143805200031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے