بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دسترخوان پر پاؤں رکھنا


سوال

دسترخوان کے اوپر پاؤں رکھنا کیسا ہے؟

جواب

دسترخوان پر چوں کہ کھانے پینے کی اشیاء رکھی جاتی ہیں، اس لیے اس پر پاؤں رکھنا بے ادبی ہے۔ نیز  اسلامی تعلیم ہے کہ کھانے کے دوران اگر کوئی لقمہ وغیرہ گرجائے تو اسے اٹھاکر کھالیا جائے؛ معلوم نہیں کھانے کے کس جز میں برکت ہے! ممکن ہے اسی گرنے والے لقمے میں ہو! اس مقصد کے حصول کے لیے بھی دسترخوان بچھایا جاتاہے؛ لہٰذا اگر دسترخوان صاف ستھرا ہوگا تو اس پر گرنے والے اجزا کو اٹھاکر کھانے میں طبعاً کراہت نہیں ہوگی، اور اس پر پاؤں رکھے جائیں گے تو اس کے بعد گرنے والا لقمہ اٹھانے میں طبعی کراہت ہوگی، (یہ جدا بات ہے کہ اگر لقمہ زمین پر بھی گرجائے تو اسے صاف کرکے کھالینا چاہیے) بہرحال مذکورہ دونوں وجوہات کی بنا پر ادب کا تقاضا یہ ہے کہ دسترخوان پر پاؤں نہ رکھاجائے، ہمارے دیار اور اکثر جگہوں پر یہ معیوب ہے، البتہ بعض جگہ اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے