بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جمادى الاخرى 1441ھ- 21 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کو رنگنے کا حکم اور داڑھی کی حدود


سوال

 داڑھی کے بالوں کو گہری مہندی لگانا یا گہرا براؤن یا ڈارک بلیک ایک کلر آیا ہے اس کا کرنا درست ہے یا نہیں؟  اور اس کے علاوہ داڑھی کی حدود بھی بتادیں جو داڑھی صاف کرتے ہیں گلے کے نیچے سے اوپر گالوں میں سے۔

جواب

داڑھی یا سر کے سفید بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگنا جائز نہیں ہے ،کیوں کہ صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ سیاہ رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں  سے رنگنا جائز ہے ۔
صحيح مسلم (3/ 1663):
"عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضاً، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد»".

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو قحافہ  (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد) کے سفید بالوں کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ  ان کے سفید بالوں کو رنگ دو، مگر سیاہ رنگ سے انہیں بچانا۔

جبڑے  اور ٹھوڑی کی ہڈی پر اگنے والے بال شرعاً ڈاڑھی ہیں، جبڑے کی ہڈی پر اگنے والے بالوں  کے علاوہ رخسار پر جتنے بال ہوں وہ سب مونڈسکتے ہیں، ان کا مونڈنا  جائز ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ رخسار کے بال نہ مونڈے جائیں۔ اور  ہونٹ کے نیچے بیچ میں جو بال ہوتے ہیں (جنہیں عربی میں عَنْفَقَةٌاوراردو میں داڑھی بچہ کہتے ہیں) وہ داڑھی ہی ہے ، داڑھی کی طرح ان کا مونڈنا یا ایک مشت سے کم پر کتروانا ناجائز وحرام ہے۔ باقی گردن کی جانب میں داڑھی کی حد ٹھوڑھی کی ہڈی ہے۔

المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (1/ 187):
"وأما شعر العنفقة فيحرم إزالته كحرمة إزالة شعر اللحية".

(صحیح البخاري ، کتاب اللباس، باب تقلیم الأظفار ۲/۸۷۵، رقم: ۵۶۶۳، ف:۵۸۹۲)
" عن ابن عمرؓ عن النبي صلی اﷲ علیه وسلم قال: خالفوا المشرکین، وفروا اللحی، واحفوا الشوارب. وکان ابن عمر إذا حج، أوعمر قبض علی لحیته فما فضل أخذه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 100):
"(قوله: جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها، نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن.
وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض، بحر".

الموسوعة الفقهية الكويتية (35/ 222):
"اللحية لغة : الشعر النابت على الخدين والذقن ، والجمع اللحى واللحى . ورجل ألحى ولحياني : طويل اللحية ، واللحي واحد اللحيين وهما : العظمات اللذان فيهما الأسنان من الإنسان والحيوان ، وعليهما تنبت اللحية . واللحية في الاصطلاح ، قال ابن عابدين : المراد باللحية كما هو ظاهر كلامهم الشعر النابت على الخدين من عذار ، وعارض ، والذقن".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے