بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

داڑھی رنگنا


سوال

 داڑھی رنگنا کیسا ہے؟  بعض کہتے ہیں : اس کے ساتھ غسل نہیں ہوتا۔بعض کہتے ہیں: وضو نہیں ہوتا۔ بعض کہتے ہیں: اس میں گناہ ہے۔

برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب چاہیے کہ کس قسم کا رنگ جائز ہے اور کس قسم کا ناجائز ہے؟ کیوں کہ میں نے بذاتِ خود کئی اچھے علماء کو دیکھا ہے کہ وہ داڑھی کو مناسب رنگ سے رنگتے ہیں۔

جواب

داڑھی کے بالوں کو  رنگنا جائز ہے، البتہ خالص کالے رنگ کاخضاب لگاناجائز نہیں  ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت اور سخت وعیدآئی ہے،  صرف حالتِ جہاد میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی  اجازت دی گئی ہے۔ ابوداودشریف کی روایت میں ہے: ’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جوسیاہ خضاب لگائیں گے،جیسے کبوترکاسینہ،ان لوگوں کوجنت کی خوش بوبھی نصیب نہ ہوگی‘‘۔

البتہ خالص کالے رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں کا خضاب لگانا جائز ہے۔یہی حکم آج کل بازار میں دست یاب بالوں کے  جدید کلر (رنگ)  کا بھی ہے یعنی خالص سیاہ (کالا) کلر  بالوں پر لگاناتو جائز نہیں ہے، البتہ  کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کلر مثلاً خالص براؤن ،  سیاہی مائل براؤن یا سرخ(لال) کلر لگانا جائز ہے۔ 

جہاں تک غسل اور وضو ہونے یا نہ ہونے کی بات ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ عموماً جو کلر استعمال ہوتے ہیں (خواہ مہندی ہو یا کوئی جدید کیمیکل سے بنا رنگ) وہ دھونے کے بعد بالوں تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتے، اس لیے ایسے خضاب سے رنگ آنے کے بعد وضو اور غسل ہوجائے گا۔ البتہ جس وقت مہندی وغیرہ  سر یا داڑھی کے بالوں میں لگی ہوئی ہو اور وہ خشک ہو کر جمی ہوئی ہو (یعنی اس کی تہہ موجود ہو) جو پانی پہنچنے سے مانع ہو تو اس حالت میں وضو اور غسل (فرض) نہیں ہوگا، اسے چھڑا کر وضو یا غسل کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی جدید کلر ایسا آجائے جسے لگانے کے بعد مستقل اس کی تہہ جم جاتی ہو دھونے سے بھی نہ ہٹتی ہو اور باقاعدہ تہہ محسوس بھی ہوتی ہو اور پانی پہنچنے سے مانع بھی ہو تو اسے لگاکر وضو اور غسل (فرض) ادا نہیں ہوگا۔
سنن النسائي (8/ 138):

" أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحلبي، عن عبيد الله وهو ابن عمرو، عن عبد الكريم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رفعه أنه قال: «قوم يخضبون بهذا السواد آخر الزمان كحواصل الحمام، لايريحون رائحة الجنة»".

صحيح مسلم (3/ 1663):

" وحدثني أبو الطاهر، أخبرنا عبد الله بن وهب، عن ابن جريج، عن أبي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضاً، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد»".

الفتاوى الهندية (5/ 359):

"اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة، وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم، وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة؛ ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى. ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه، وعليه عامة المشايخ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے