بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دادی اورپوتے کا ایک بستر پر سونا


سوال

میری دادی کی  عمر ۶۴ سال ہے اور میرا بھائی ابھی ۱۴ سال کا ہے ،دادی کو اکیلے بستر پر سونے میں ڈر لگتا ہے تو میری دادی کے ساتھ میری  بہن یا بھائی سوتا ہے، ان کے ساتھ اگر الگ الگ چادر میں سویا جائے تو کیا دادی اور بھائی کا ایک بستر پہ سونا جائز ہے؟

جواب

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کا ہوجائے تو نماز نہ پڑھنے پر اس کی تادیب کرو اور ان کے بستر علیحدہ کردو، لہذا جب آپ کا بھائی 14 سال کا ہے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ دادی کے ساتھ ایک بستر پر علیحدہ چادر میں سوئے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (2 / 512):

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، و اضربوهم عليها وهم أبناء عشر، وفرقوا بينهم في المضاجع» . رواه أبو داود، وكذا رواه في " شرح السنة " عنه.

و في الشرح: (وفرقوا) : أمر من التفريق (بينهم) : أي: بين البنين والبنات على ما هو الظاهر، ويؤيده ما قاله بعض العلماء، ويجوز للرجلين أو المرأتين أن يناما في مضجع واحد ; بشرط أن تكون عورتهما مستورة بحيث يأمنان التماس المحرم. وقال ابن حجر: بهذا الحديث أخذ أئمتنا فقالوا: يجب أن يفرق بين الإخوة والأخوات فلا يجوز حينئذ تمكين ابنين من الاجتماع في مضجع واحد، والظاهر أن قوله: فلا يجوز إلخ، من كلامه، وهو غير مفهوم من كلام أئمته فتأمل. (في المضاجع) : أي: المراقد. وقال الطيبي: لأن بلوغ العشر مظنة الشهوة، وإن كن أخوات، وإنما جمع الأمرين في الصلاة والفرق بينهم في المضاجع في الطفولية تأديباً ومحافظةً لأمر الله تعالى؛ لأن الصلاة أصل العبادات، وتعليما لهم المعاشرة بين الخلق، وأن لا يقفوا مواقف التهم فيجتنبوا محارم الله تعالى كله".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے