بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

خود کشی کرنا


سوال

خود کشی کرنا جائز ہے؟

جواب

خود کشی کرنا حرام ہے، خودکشی کرنے والے کے  بارے میں سخت وعید  ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: 

"عن أبي هریرة قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من تردی من جبل فقتل نفسه، فهو في جهنم یتردی فیها خالداً مخلداً فیها أبداً، ومن تحسا سماً فقتل نفسه فسمه في یده یتحساه في نار جهنم خالداً مخلداً فیها أبداً، ومن قتل نفسه بحدیدة فحدیدته في یده یتوجأء بها في بطنه في نار جهنم خالداً مخلداً فیها أبداً. متفق علیه". (مشکاة ،ج٢ص٢٩٩)

ترجمہ:حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا  رسول اللہ ۖ نے:  جو شخص خود کو پہاڑ سے گراکر ہلاک کرے گا تو وہ جہنم کی آگ میں خود کو پہاڑ  سے گراکر ہلاک کرتا رہے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ چلے گا، اور جس نے زہر کھاکر خود کو مار ڈالا تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جہنم کی آگ میں اور ہمیشہ ہمیشہ رہ کر ایسا ہی کرتا رہے گا اور جس نے دھاری دار تیز  چیز سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا تو وہ چیز اس کے ہاتھ میں ہوگی جہنم کی آگ میں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا رہے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے