بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو الحجة 1441ھ- 03 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

خفیہ نکاح کے بعد اعلانیہ نکاح کا حکم


سوال

ایک لڑکا اور لڑکی نکاح کرنا چاہتے ہیں، ان کے والدین وقتی طور پر نکاح پر راضی نہیں،  رشتے پر راضی ہیں۔ اب یہ دونوں وقتی طور پر خفیہ نکاح کرلیں، اور بعد میں رضامندی کے بعد دوبارہ نکاح کرلیں اور نکاح مقرر کریں تو کیایہ درست ہے؟اور پھر مہر دوبارہ دینا ہوگا؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں اورخصوصاً لڑکی کی حیاء، اخلاق، معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے ولی(والدین) کے ذریعے نکاح کا نظام رکھا ہے کہ نکاح ولی کے ذریعے کیا جائے، یہی شرعاً، اخلاقاًاور معاشرۃً  پسندیدہ طریقہ ہے، اسی میں دینی، دنیوی اور معاشرتی فوائد ہیں، لیکن اگر کوئی نادان لڑکی یا لڑکا جو کہ عاقل بالغ ہیں ان فوائد اور پسندیدہ عمل کو ٹھکراکر خود ہی  والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں  نکاح کریں تو نکاح ہوجائے گا، دونوں میاں بیوی بن جائیں گے،لیکن یہ نکاح پسندیدہ طریقہ پر نہیں ہوگا۔  نیز یہ کہ اس کے بعد طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجائے گی۔

رہا دوبارہ نکاح کا معاملہ، تو شرعی طورپر محض رسمی  کارروائی کے لیے ایسا کرنے کی اجازت ہوگی۔

مہر کے بارے میں یہ تفصیل ہوگی کہ اگر پہلے مہر پر ہی دوسرا نکاح بھی ہوا تو  ایک مہر ہی واجب رہے گا، دوبارہ نکاح میں مقررکیاجانےوالا مہرمحضرسمی کارروائی سمجھی جائے گی،  اور اگر پہلے مہر سے بڑھاکر دوسرا نکاح ہوا ہے تو اِضافہ شدہ رقم بھی اصل مہر میں شامل ہوکر واجب ہوگی۔

"وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان على الظاهر".

وفي الرد:

"(قوله: وفي الكافي إلخ) حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف، ثم في العلانية بألفين، ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادةً في المهر. وعند أبي يوسف: المهر هو الأول؛ لأن العقد الثاني لغو. فيلغو ما فيه. وعند الإمام: أن الثاني وإن لغا لايلغو ما فيه من الزيادة". (الدر المختار مع رد النحتار 3/112)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں