بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

حیض کے ایام بیوی سے جماع کرنا بہر صورت حرام ہے


سوال

اگر شوہر حیض کی حالت میں کونڈوم کے ساتھ ہم بستری کا کہے تو کیا ہم بستری کر نا صحیح ہے؟

جواب

حالتِ حیض میں جماع کرنا خواہ کونڈوم کے ساتھ  ہو یا  اس کے بغیر ہو،  بنصِ قرآنی قطعاً حرام و ناجائز ہے،  پس  اگر زوجین باہمی  رضامندی سے اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں  تو دونوں گناہ گار ہوں گے، دونوں پر سچے دل سے  استغفار لازم ہوگا،  اگر اس حالت  میں جماع حلال سمجھتے ہوئے کیا تو آیتِ قرآنی کے انکار کی وجہ سے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، البتہ اگر غلطی سے اس گناہ کا ارتکاب ہوگیا تو  توبہ و استغفار کے بعد  کچھ صدقہ کردے؛ تاکہ نیکی سے گناہ دھل جائے۔ نیز اگر حیض کے ابتدائی ایام میں ( جب کہ خون سرخ ہوتا ہے)  یہ گناہ سہواً سرزد ہوگیا  ہو تو ایک دینار (4.374 گرام سونے کا سکہ) یا  اس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر حیض کے آخری ایام میں ایسا ہوا ہو توآدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کردے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جوشخص بھی حائضہ عورت سے ہم بستری کرلے وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے ) ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 298):

"(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعاً «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار»، ثم قيل: إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل: بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه: «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دماً أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200377

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے