بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حکومت سے غلط بیانی کرکے مال لینا


سوال

ایک بندہ گورنمنٹ ادارے میں کام کرتا ہے، اس کے افسر نے زبردستی اُس سے گاڑی کی لاگ بوک (Log Book) پر دستخط کروائے کہ اُس نے فلاں دن سرکاری کام کے لیے اتنا سفر کیا، حال آں کہ اُس نے وہ سفر نہیں کیا، اس صورت میں گورنمنٹ کا اندازاََ 1000 روپے کا نقصان ہوا۔ اس صورت میں بندہ کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ اتنی رقم گورنمنٹ کو واپس کرے یا اپنی تنخواہ سے کٹوائے؟

جواب

آپ اپنے اختیار کے بقدر گناہ گار ہوئے ۔جبر اورزورزبردستی کی وجہ سے دوسرے کامال کھانا جائز نہیں ہوجاتا اوررقم چوں کہ آپ کے استعمال میں نہیں آئی؛ اس لیے اس کاتاوان آپ پر لازم نہیں ہے، احتیاطاً رقم سرکاری خزانے میں جمع کراسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143904200098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے