بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حکم البغض مع الکفار وادب التعامل معھم


سوال

ہل یجب علینا أن نبغض الکفار؟ و کیف نتعامل معہم بحسن الخلق إن نبغضہم شدیداً؟  ہل یجد اختلا ف  بین العلماء فی ھذہ المسئلۃ؟

جواب

قد دل الکتاب والسنۃ  وإجماع المسلمین دلالۃصریحۃ علی وجوب بغض الکفار وعلی وجوب معاداتھم حتی یومنوا باللہ وحدہ، وماذالک الا لکفرھم باللہ وعداوتھم لدینہ ومعاداتھم لاولیائہ وکیدھم للاسلام واھلہ  ( کما فی سورۃ آل عمران، آیۃ: ۱۱۸،  والممتحنۃ ،آیۃ :۱)

واما ادب التعامل مع الکفار! فلایلزم من بغضنا لہم أن لانکلمھم او نکلح فی وجوھھم  بل یتعین السعی فی ہدایتھم ودعوتھم بالتی ہی  أحسن وعدم الرضی بفجورھم، وینبغی أن نخاطبھم بالقول اللین الحسن ونحسن معاملتھم۔

وقد ذکرالعینی فی شرح البخاری عند شرح قول أبی الدرداء: "إنا لنکشر فی وجوہ أقوام وإن قلوبنا لتلعنھم،  ذکر أنہ تشرع المداراۃوھی لین الکلام وترک الاغلاظ لھم فی القول ما ھی من أخلاق المؤمنین".

اما المداھنۃفمحرمۃ،  والفرق بینھما أن المداہنۃ   ھی أن یلقی الفاسق المعلن بفسقہ فیؤالفہ ولا ینکر علیہ ولو بقلبہ. والمداراۃھی  الرفق بالجاہل الذی یستتر بالمعاصی واللطف بہ حتی یردہ عماھو علیہ فلیس بمحرم بل مطلوب، ولیس فیہ اختلاف  لاحد۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143805200016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے