بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1441ھ- 06 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

حق کی وصولی کے لئے رشوت دینے کا حکم


سوال

 

آج کل  پبلک ڈیلنگ کے ہر ادارے میں پیسہ مانگا جاتا ہے،،پیسہ دئیے بغیر ایمبولینس تک نہیں ملتی، دیا جائے تو کام ہوتا ہے ورنہ اٹک جاتا ہے، ایسی صورت حال میں کیا پیسے دے کر کام کروانا جائز ہوگا؟

جواب

صریح حدیث کی رو سے رشوت کا لینا دینا ناجائز وحرام ہے، اس لئے حتی الامکان رشوت سے بچنا واجب ہے، البتہ اگر  باوجود حقدار ہونے کے رشوت دئیے بغیر  کام نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اپنے حق کی وصولی کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے، رشوت لینے والے کے لئے وہ مال حرام ہی ہوگا، واللہ اعلم!


فتوی نمبر : 143611200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں