بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

حرام پیسوں سے خریدی گئی دکان میں کاروبار کرنے کا حکم


سوال

کسی نے حرام پیسے سےدکان کے لیے زمین خریدی ہے اور اس میں جو مال لگایا ہے وہ حلال پیسے کا ہے تو اس دکان سے تجارت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں حلال مال کے فروخت ہونے سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا،  تاہم دوکان چوں کہ حرام کی ہے اس لیے اس کا استعمال ناجائز ہوگا، حرام مال بلاعوض حاصل ہوا ہو تو اصل مالک تک اتنی رقم پہنچائی جائے، مالک نہ ہو تو اس کے ورثہ کو اتنی رقم حوالہ کی جائے، اگر پوری کوشش کے باوجود مالک اور ورثہ نہ مل سکیں تو حرام رقم کے بقدر رقم، ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکات کو دے دے، تو دکان کا استعمال جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے