بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدنی والوں کا تبلیغی جماعت میں رقم لگانا


سوال

جو لوگ تبلیغی جماعت میں وقت لگاتے ہیں تو خرچے کے لیے اجتماعی پیسے جمع کرتے ہیں۔ اگر ان ساتھیوں میں کسی کی آمدنی مکمل حرام ہو تو باقی ساتھیوں کے لیے ان اجتماعی پیسوں کا استعمال کیسا ہے؟ جو حلال اور حرام کا مخلوط ہے۔

جواب

واضح رہے کہ جانتے بوجھتے حلال مال میں حرام مال کو  شامل کرنا ممنوع ہے اور اس شرکت کی وجہ سے سب مال  پر حرام کا حکم لگتا ہے۔  جیساکہ الأشباہ و النظائر میں ہے:

"القاعدة الثانية من النوع الثاني: إذا اجتمع عند أحد مال حرام و حلال فالعبرة للغالب ما لم يتبين". (١/ ١٤٧)

غالب کا اعتبار حلال و حرام مال کے اتفاقیہ ملنے کی صورت میں ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جانتے بوجھتے حرام مال کو شامل کرنا درست نہیں، اس کی درست صورت یہ ہوگی کہ حرام مال والے شریک سے کہا جائے کہ وہ کسی حلال آمدن والے سے مطلوبہ رقم قرض لے کر شرکت کرلے اس طرح سب مال حلال ہوگا ،  یا سب  اپنے کھانے وغیرہ کا الگ انتظام رکھیں۔

واضح رہے کہ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق اگر جماعت کے کسی ساتھی کی آمدن کے حرام یا مشکوک ہونے کا علم ہوجائے تو وہ اس رقم کو اجتماعی خرچے میں شامل نہیں کرتے، بلکہ اس ساتھی کا اکرام کرکے حکمت کے ساتھ اس کی رقم کسی تدبیر سے واپس کردیتے ہیں۔ تاہم اگر لاعلمی میں کسی کی حرام رقم شامل ہوجائے تو اللہ تعالیٰ  وسعت کے مطابق ہی انسان کا مؤاخذہ فرماتے ہیں، اور وہ دلوں کے حال کو جاننے والے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200214

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے