بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

حج کے لیے فنڈ قائم کرنا


سوال

ہمارے ادارے میں افسران کی ایک ایسوسی ایشن ہے۔ جس کے ممبران سنی اور شیعہ دونوں ہیں, اس ایسوسی ایشن  نے ایک حج فنڈ قائم کیا ہے۔ فنڈ میں افسر ان بلا جبر رضا کارانہ طور پر ماہانہ 500 روپے دیتے ہیں۔ فنڈ سے جمع ہونے والی رقم بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے۔ جب حج کا موسم آتا ہے تو قرعہ اندازی سے جن افسران کے نام نکلتے ہیں، ان کو حج کے  لیے اس فنڈ سے رقم دے دی جاتی ہے۔ جس سے وہ حج ادا کرتے ہیں۔ وہ افسران جو اس رقم سے حج ادا کرتے ہیں، اس بات کے پابند ہوجاتے ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ تک اس فنڈ میں ماہانہ رقم کی ادائیگی کرتے رہیں گے۔ وہ افسران جن کا نام حج کے  لیے نہیں نکلتا وہ کس بھی وقت اس فنڈ کی کٹوتی سے اپنا نام نکلوا سکتے ہیں۔  لیکن ان کی پچھلی جمع شدہ رقم واپس نہیں کی جاتی۔ اگر کوئی شخص ریٹائر ہو جائے اور اس کا حج کے لیے نام نہ نکلے تو اس کو اس کی جمع شدہ رقم واپس نہیں کی جاتی۔

اس طریقے سے حاصل ہونے والی رقم سے فرض یا نفل حج ادا ہو جائے گا؟

 اگر جواب کے ساتھ قرآن، حدیث، اور کتب فقہ کا حوالہ بھی دے د یں تو مزید عنایت ہوگی!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ حج فنڈ میں جن کے نام نہیں آتے وہ اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اسی طرح جن لوگوں کے نام نکل آتے ہیں ان کے متعلق بھی یہ بات یقینی نہیں کہ وہ ریٹائر منٹ  تک حج پر آنے والے مکمل اخراجات ادا کرلیں؛  لہٰذا ایسا حج فنڈ قائم کرنا جائز نہیں، اس میں سود اور قمار (جوا) پایا جاتا ہے اور جو حضرات اس رقم سے حج کرتے ہیں ان کا مال مخلوط ہوتا ہے،  کچھ رقم تو وہ ہوتی ہے جو انہوں نے ادا کی، یا مستقبل میں اد اکریں گے، اس کے علاوہ وہ رقم جن کی ادائیگی وہ نہیں کریں گے، حرام ہے۔ ایسی رقم سے حج کرنے سے فریضہ تو ساقط ہوجائے گا اور ذمہ گردن سے اتر جائے گا، لیکن قبولیت حاصل نہیں ہوگی، حج کے ثمرات وبرکات سے محروم رہے گا۔

اس فنڈ کو اگر اس طرح ترتیب دیا جائے کہ جن کے نام قرعہ اندازی میں نکل آئیں وہ اس بات کے پابند ہوں  کہ حج پر آنے والے تمام اخراجات جو فنڈ سے دیے گئے ہیں ادا کریں، چاہے اس دوران ریٹائر ہی کیوں نہ ہوجائیں اور جن کے نام قرعہ اندازی میں نہ نکلیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جمع کی گئی رقم ان کو لوٹا دی جائے تو اس طرح جس نے جتنی رقم جمع کروائی اسے اپنی پوری رقم مل جائے، کسی کو کم یا کسی کو زیادہ نہ ملے، اس طرح یہ فنڈ جائز ہوگا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{يأيها الذين أمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون} [المائدة: 90]

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وأما الميسر فقد روي عن علي أنه قال: الشطرنج من الميسر. وقال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين: النرد. وقال قوم من أهل العلم: القمار كلمه من الميسر، وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه، وهو السهام التي يجيلونها، فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم، فربما أخفق بعضهم حتى لايخطئ بشيء وينجح البعض فيحظي بالسهم الوافر، وحقيقته تمليك المال على المخاطرة، وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار، كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا عقلت على الأخطار ... ولأن معنى إيسار الجزور أن يقول من خرج سهمه: استحق من الجزور كذا، فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقاً على الحظر، والقرعة في الحقوق تنقسم إلى معنيين: أحدهما تطييب النفوس من غير إحقاق واحد من المقترعين ولا بخس حظه مما اقترعوا عليه، مثل القرعة في القسمة، وفي قسم النساء، وفي تقديم الخصوم إلى القاضي". (4/127، ط: داراحياء التراث العربي)

رد المحتار میں ہے:

"ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لايقبل بالنفقة الحرام، كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه وعدم قبوله؛ فلايثاب لعدم القبول، ولايعاقب عقاب تارك الحج. اهـ

أي لأن عدم الترك يبتني على الصحة: وهي الإتيان بالشرائط، والأركان والقبول المترتب عليه الثواب يبتني على أشياء كحل المال والإخلاص، كما لو صلى مرائياً أو صام واغتاب فإن الفعل صحيح، لكنه بلا ثواب، والله تعالى أعلم".(كتاب الحج، 2/456، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجتهد في تحصيل نفقة حلال؛ فإنه لايقبل الحج بالنفقة الحرام مع أنه يسقط الفرض معها، وإن كانت مغصوبةً كذا في فتح القدير". (1/220، ط: ماجدية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے