بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حج کے لیے الگ کی گئی رقم پر زکاۃ


سوال

 حج کے پیسوں پر زکاۃ لازم ہوتی ہے؟

جواب

حج کی نیت سے الگ کی گئی رقم  اگر ابھی تک جمع نہیں کرائی اور وہ موجود ہے، یا سرکاری اسکیم میں جمع کرائی ہے اور ابھی تک قرعہ اندازی نہیں ہوئی تو سال گزرنے پر اس  رقم کی  زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، (فتاوی شامی،2/ 262، کتاب الزکاة، ط: سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں