بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں عمرہ کیا


سوال

میں تین سال پہلے عمرے پر گئی تھی تو  اس وقت میں  حالتِ حیض میں تھی  میقات میں، پھر میں نے غسل کیا اور احرام باندھا۔ جب حرم پہونچی تو پھر حیض آگیا تو اس حالت میں میں نے طواف بھی کیا اور صفا مروہ کی سعی بھی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ اب میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورت مسئّولہ میں آپ کے ذمہ حرم کی حدود میں ایک دم (قربانی) دینا لازم ہے۔ خود نہ جاسکیں تو کسی کے ذریعے حدودِ حرم میں ایک چھوٹا جانور بطورِ دم ذبح کروادیں، اور اس پر استغفار بھی کیجیے۔

"ولو طاف للزیارة جنباً أو حائضاً أو نفساء کله أوکثره ویقع معتداً به في حق التحلل ویصیر عاصیاً فإن أعاده سقطت عنه البدنة". (غنیة الناسك ۲۷۲)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 550):

"(أو طاف للقدوم)؛ لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنباً) أو حائضاً (أو للفرض محدثاً ولو جنباً فبدنة إن) لم يعده، والأصح وجوبها في الجنابة، وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول، والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي، جوهرة. وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم ، وكذا لو ترك من طوافها شوطاً؛ لأنه لا مدخل للصدقة في العمرة ... (قوله: بلا عذر) قيد للترك والركوب. قال في الفتح عن البدائع: وهذا حكم ترك الواجب في هذا الباب اهـ أي أنه إن تركه بلا عذر لزمه دم، وإن بعذر فلا شيء عليه مطلقاً. وقيل: فيما ورد به النص فقط، وهذا بخلاف ما لو ارتكب محظوراً  كاللبس والطيب، فإنه يلزمه موجبه ولو بعذر، كما قدمناه أول الباب". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200730

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں