بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حاجت مند کو قرض کی بجائے کوئی چیز مہنگی فروخت کرنا


سوال

کسی کو پیسے کی ضرورت پڑ جائے تو محلے کے ایک آدمی کے پاس جاتے ہیں، جو سونا خرید کر دیتا ہے اور معا ہدہ کرتا ہے۔ مثلاً: میں نے  ان سے 5000 مانگے، وہ سنار کی دکان سے 5000 کا سونا خرید کر مجھے 6500 میں تین اقساط میں بیچتا ہے، اور اس کا تحریری معاہدہ کر کے رقم کی اقساط کی ادائیگی کا ایک ضامن بھی لیتا ہے ۔ اسلام کی رو سے یہ تجارت جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

مذکورہ طریقہ کار ’’بیعِ عینہ‘‘ ہی کی ایک صورت ہے اور اس طریقہ خریدوفروخت میں ایک ضرورت مندکی حاجت پوری کرنے کے بجائے دنیاداری اور مفاد پرستی غالب ہے۔اصل مقصود صاحبِ حاجت  کی حاجت براری ہونا چاہیے،  یہاں حاجت قرض کی ہے۔ جب کہ یہاں براہِ راست قرض دے کر نفع حاصل کرنے سے بچنے کے لیے مذکورہ حیلہ اختیار کیاجاتاہے، اس لیے اس طریقے سے خریدوفروخت کرنااور نفع حاصل کرنادرست نہیں۔احادیثِ مبارکہ میں قرض کی صورت میں بھی کسی کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے:

’’ حضرت براء ؓ  راوی ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص دودھ کا جانور کسی کو عاریۃً دے یا چاندی (یعنی روپیہ وغیرہ) قرض دے یا کسی راستہ بھولے ہوئے اور نابینا کو کوچہ و راستہ میں راہ بتائے تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ثواب ہو گا۔ (ترمذی) ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں ہے:

’’ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ»‘‘. (رواه احمد)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی کا کسی دوسرے بھائی پر کوئی حق (قرضہ وغیرہ) واجب الادا ہو اور وہ اس مقروض کو ادا کرنے کے لیے دیر تک مہلت دے دی تو اس کو ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ملے گا۔

فتح القدیر میں ہے:

"ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة، إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات، كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائماً بل هو مندوب، فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه أو لعارض يعذر به فلا، وإنما يعرف ذلك في خصوصيات المواد ومالم ترجع إليه العين التي خرجت منه لايسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقاً، وإلا فكل بيع بيع العينة "۔(7/213)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143907200017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے