بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جہیز میں ملے سونے پر زکاۃ کب واجب ہوگی؟


سوال

میری شادی چار ماہ پہلے ہوئی ہے، میری بیوی اپنے جہیز میں دس تولہ سونا لے کر آئی ہے، جسے شادی کے بعد اس نے میری ملکیت میں دے دیا ہے، سوال یہ ہے کہ مذکورہ سونے پر زکاۃ مجھے اسی سال ادا کرنی ہوگی یا اگلے سال؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ اس دس تولہ سونا ملنے سے پہلے ہی صاحبِ نصاب تھے تو سابقہ حساب سے زکاۃ  کا سال مکمل ہونے پر اس سونے کو بھی کل مال میں شامل کرکے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا۔ تاہم اگر آپ پہلے سے صاحب نصاب نہیں تھے تو مذکورہ سونا جس اسلامی تاریخ میں آپ کی ملکیت میں آیا ہو اگلے سال اسی اسلامی تاریخ تک جو کچھ نقدی، سونا، چاندی آپ کی ملکیت میں ہو، اس کے کل کا ڈھائی فیصد زکاۃ  کے طور پر آپ کو ادا کرنا ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201694

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے