بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جہیز لینے کے متعلق سوچ رکھنا


سوال

میں نے دسمبر میں اپنی شادی پکی کرلی، میرے حالات ایسے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو خوش رکھ سکتا ہوں، لیکن میرے گھر والے اور خاندان والے چاہتے ہیں کہ میں جہیز لوں تو میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اپنے گھر والوں کو سمجھا سکوں،  میں ماہانہ 25000 کماتا ہوں،  مجھے زور اس بات کا دیا جارہا ہے کہ ان کے گھر سے اچھا سامان آئے گا۔

جواب

دلہن کو اس کے گھر والوں کی طرف سے جو سامان تحفہ میں دیا جاتا ہے وہ "جہیز"  ہے،  اور دلہن کو اس کے گھر والے جو کچھ خوشی سے دینا چاہیں وہ ان کی صواب دید پر ہے، اور بطورِ تحفہ لڑکی کو دیا گیا یہ سامان لڑکی کی ملکیت ہوتاہے۔  اس سلسلے میں لڑکے والوں کی طرف سے "جہیز"  دینے کادباؤ یا جہیز کا مطالبہ یاجہیز کا سامان ملنے کی لالچ رکھنا انتہائی قبیح اور غیر اخلاقی سوچ ہے، شریعت نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے؛ لہذا آپ اپنے گھر والوں کو یہ بتائیں کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرتے ہوئے قناعت سے زندگی گزارنا اللہ کو پسند ہے، اور دوسروں کے مال پر طمع بھری نظر جمائے رکھنا بہت نامناسب عمل ہے،  جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (1 / 327):

"لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها، وعليه الفتوى". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے