بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں ماہ واری آجائے تو غسل کا حکم


سوال

ہم بستری کے بعد غسل کیے بغیر سوگئے اور صبح پیریڈ آگئے تو غسل کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

جنابت کی حالت میں کسی عورت کو ماہ واری آجائے تو اس پر غسلِ جنابت فرض نہیں رہتا؛  اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک وہ عورت ایامِ حیض میں ہے، پاکی کا تصور ہی نہیں ہوسکتا،  لہذا  ایامِ حیض میں عورت  غسلِ طہارت نہیں کرے گی، ایام ختم ہونے پر غسل کرنا پڑے گا۔ 

البتہ اگر کوئی عورت ماہ واری کے ایام میں ویسے ہی غسل کرنا چاہے تو شرعی اعتبار سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن یہ غسل غسلِ طہارت نہیں کہلائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں