بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 محرم 1442ھ- 19 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں روزہ رکھنا


سوال

کیا سحری سے پہلے غسلِ جنابت ضروری ہے؟میرا مطلب  یہ ہے  کہ سحری کے بعد غسل جنابت کرنے سے روزہ رہے گا یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص  پر غسل واجب  ہو اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکا  اور سحری کرکے روزہ رکھ لیا تو اس کا روزہ درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ  فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔

اور روزے کی حالت میں غسل  کا وہی طریقہ ہے جو عام حالات میں ہے، البتہ روزہ کی وجہ سے ناک میں اوپر تک پانی ڈالنا اور   کلی میں غرارہ کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ ناک میں پانی چڑھانے سے یا غرارہ کرنے سے پانی حلق میں چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، لہذا  صرف  کلی کرلے اور ناک میں پانی ڈال لے توغسل صحیح ہوجائے گا، افطاری کے بعد غرارہ کرنے یاناک میں پانی چڑھانے کی ضرورت  بھی نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909200419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں