بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جماعت کی نماز میں امام کے لیے مقتدی عورت کی نیت کرنا


سوال

اگر عورتیں مسجد میں چلی جائیں اور مردوں کے پیچھے جماعت میں شریک ہو جائیں تو کیا ان کی نماز ہوجائے گی؟  کیوں کہ امام نے ان کی امامت کی نیت کی یا نہیں؟ پتا نہیں! تو کیا نماز ہو گئی؟

جواب

عورتوں کے لیے مسجد میں جاکر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، لیکن اگر وہ مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو اس میں تفصیل یہ ہے:

  1. اگر وہ مردوں کے ساتھ صفوں میں  مل کریا مردوں سے آگے کھڑی ہوتی ہیں تو امام کے لیے عورتوں کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے، اگر امام نے عورتوں کی نیت نہیں کی یا یہ معلوم نہ ہو کہ امام عورتوں کی نیت کرتا ہےیا نہیں تو عورتوں کی نماز نہیں ہوگی۔
  2. اگر وہ مردوں کی صفوں میں مل کر  یا مردوں سے آگے کھڑی نہیں ہوتیں، بلکہ مردوں کے پیچھے الگ صف میں  کھڑی ہوتی ہیں تو امام کے لیے ان کی نیت کرنا ضروری نہیں، ان کی نماز ہوجائے گی۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

’’اگر محاذی مرد کے نہ کھڑی ہو تو امام کو اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے‘‘۔ (کتاب الصلاۃ 2 / 111 ط: دار الاشاعت)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 424):

"(والإمام ينوي صلاته فقط) و (لا) يشترط لصحة الاقتداء نية (إمامة المقتدي) بل لنيل الثواب عند اقتداء أحد به قبله كما بحثه في الأشباه (لو أم رجالا) فلا يحنث في لا يؤم أحدا ما لم ينو الإمامة (وإن أم نساء، فإن اقتدت به) المرأة (محاذية لرجل في غير صلاة جنازة، فلا بد) لصحة صلاتها (من نية إمامتها) لئلا يلزم الفساد بالمحاذاة بلا التزام (وإن لم تقتد محاذية اختلف فيه) فقيل يشترط وقيل لا كجنازة إجماعا، وكجمعة و عيد على الأصح خلاصة وأشباه، وعليه إن لم تحاذ أحدا تمت صلاتها وإلا لا".

و في الرد:

"(قوله: كجنازة) فإنه لا يشترط لصحة اقتداء المرأة فيها نية إمامتها إجماعا لأن المحاذاة فيها لاتفسدها (قوله: على الأصح) حكوا مقابله عن الجمهور (قوله: وعليه) أي على القول بأنه لايشترط لصحة اقتدائها نية إمامتها فيصح اقتداؤها لكن إن لم تتقدم بعد ولم تحاذ أحدا من إمام أو مأموم بقي اقتداؤها وتمت صلاتها، وإلا: أي وإن تقدمت وحاذت أحداً لايبقى اقتداؤها ولاتتم صلاتها، كما في الحلية فليس ذلك شرطاً في الجمعة والعيد فقط، فافهم".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 424):

"إذا نوى أن يؤم الرجال دون النساء فلايجزيهن كما في النتف".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3 / 117):

"وأما في حق النساء فإنه لايصح اقتداؤهن إذا لم ينو إمامتهن؛ لأن في تصحيحه بلا نية إلزاماً عليه بفساد صلاته إذا حاذته من غير التزام منه وهو منتف وخالف في هذا العموم بعضهم، فقالوا: لايصح اقتداء النساء وإن لم ينو الإمام إمامتهن في صلاة الجمعة والعيدين، وصححه صاحب الخلاصة والجمهور على اشتراطها في حقهن لما ذكرناه، وأما صلاة الجنازة فلايشترط في صحة اقتدائها به فيها نية إمامتها بالإجماع، كذا في الخلاصة". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے